ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی امیدوار چندر شیکھر کے نام واپس لینے سے پارٹی کوجھٹکا

بی جے پی امیدوار چندر شیکھر کے نام واپس لینے سے پارٹی کوجھٹکا

Thu, 01 Nov 2018 20:47:14    S.O. News Service

بنگلورو، یکم نومبر (ایس او نیوز؍یو این آئی) کرناٹک اسمبلی کی دو نشستوں اور لوک سبھا کی تین سیٹوں پر تین نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات سے محض 48 گھنٹے پہلے رام نگر اسمبلی سیٹ پر بی جے پی امیدوار چندر شیکھر نے پارٹی رہنماؤں پر انہیں نظر انداز، کرنے کا الزام لگاتے ہوئے نام واپس لے کر پارٹی کو زبردست دھچکا دیا ہے ۔

مسٹر چندرشیکھر نے یہاں سے 50 کلو میٹر دور رام نگر میں نام واپسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’وہ کافی توقعات کے ساتھ بی جے پی میں شامل ہوئے تھے اور ہونے والے ضمنی انتخاب میں پارٹی کی طرف سے امیدوار بھی بنے لیکن پارٹی نے مجھے زبردست طریقے سے نظر انداز کیا ہے اور میرے لئے پارٹی کے کوئی رہنما انتخابی مہم چلانے نہیں آئے ۔انہوں نے کہا،میں بنیادی طور پر ایک کانگریسی لیڈر ہوں اور چند ہفتوں میں مجھے احساس ہوا کہ بی جے پی کیا ہے اور اس پارٹی میں میرے جیسے لیڈر کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ پارٹی رام نگر ضلع میں داخلی کشیدگی سے گھری ہوئی ہے ۔ بی جے پی کے رہنماؤں کا رویہ میرے لئے حیران کن ہے ۔ اس لئے میں انتخابی میدان سے ہٹ رہا ہوں اور اس انتخاب میں وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کی بیوی جے ڈی ایس کانگریس کے متحدہ امیدوار ایم ایس انیتا کمارسوامی کی حمایت کروں گا۔ اس حلقے میں جے ڈی ایس کی حالت مضبوط ہے اور بی جے پی کی اس ضلع میں کوئی بنیاد نہیں ہے ۔ کانگریس کی حمایت کی وجہ سے وزیر اعلی کی بیوی کی حالت مضبوط ہوئی ہے ۔

چندرشیکھر کو جے ڈی ایس امیدوار انیتا کمارسوامی کے خلاف سخت جدوجہد کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔مسٹر کمارسوامی، جنہوں نے اسی ضلع میں رام نگر اور چن پٹن کے دو حصوں سے انتخاب لڑا تھا، اور دونوں سیٹوں سے منتخب ہونے کے بعد رام نگر سیٹ کو خالی کر دیا تھا جس کی وجہ یہاں ضمنی انتخابات کرایا جا رہا ہے ۔مخلوط حکومت میں وزیر اعلی بنے والے مسٹر کمارسوامي نے کہا کہ کانگریس یا جنتا دل (ایس) کو مجرم ٹھہرائے جانے کے بجائے بی جے پی لیڈروں کو اپنے آپ اس توہین آمیز واقعہ کے لئے مورد الزام ٹھہرایا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا، ''مسٹر چندرشیکھر کو بی جے پی میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا اور پھر ان کے ساتھ کئے گئے وعدے کو پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ٹکٹ دینے سے پہلے اپنے پارٹی کارکنوں سے مشورہ نہیں کیا اور اسی کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ہیں۔

کمار سوامی کا ردعمل: وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے رام نگرم اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب سے بی جے پی امیدوار کے میدان سے ہٹ جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس کے لئے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کمار سوامی نے کہاکہ بی جے پی لیڈروں نے اگر اپنے ہی امیدوار کو نظر انداز کردیا تو اس کے لئے دوسری پارٹیوں کو کیوں کر ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ چندر شیکھر کا میدان سے ہٹنے کا فیصلہ اس بات کا عکاس ہے کہ بی جے پی دوسری پارٹیوں سے شامل ہونے والوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے، انہوں نے کہاکہ چندر شیکھر کی مثال تو سامنے ہے، ریاستی عوام کے سامنے سب سے بڑی مثال سابق وزیر اعلیٰ ایس ایم کرشنا کی ہے، جن کو بی جے پی میں شامل کرنے کے بعد اس پارٹی نے انہیں حاشیے پر رکھ دیا۔ بی جے پی کی طرف سے اس الزام پر کہ وزیراعلیٰ کمار سوامی ہی اس کے لئے ذمہ دار ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ بی جے پی جو چاہے کہہ لے ، لیکن چندر شیکھر نے اس کی حقیقت عوام پر ظاہر کردی ہے۔ 6نومبر کے بعد کمار سوامی سے اقتدار چھن جانے کے متعلق دعوؤں پر کمار سوامی نے کہاکہ ایک اسمبلی حلقے کے امیدوار کو جو پارٹی بچانہیں سکی وہ حکومت کو کیا خاک غیر مستحکم کرے گی۔ کمار سوامی نے کہاکہ ریاست میں کانگریس اور جے ڈی ایس عوام کو اعتماد میں لے کر کام کریں گے۔ اور یہ حکومت اپنی میعاد بغیر کسی رکاوٹ کے پوری کرے گی۔ 


Share: